Get Adobe Flash player

أ- رمضان کے روزے رکھنے میں آپ (صلى الله عليه وسلم)کا طریقہ

1- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)کی عادت یہ تھی کہ جب تک رویت ہلال کی تحقیق نہ ہوجائے یا کوئی عینی گواہ نہ مل جاتا ,آپ روزہ شروع نہ کرتے تھے, اگرچاند نہ دیکھا جاتا اورکہیں سے اس کی شہادت بھی نہ ملتی توشعبان کے پورے تیس دن مکمل کرتے تھے.

2- اوراگرتیسویں رات کوبادل حائل ہوجاتا توآپ (صلى الله عليه وسلم) شعبان کے تیس دن مکمل کرتے تھے,اورآپ ابرآلود دن کو روزہ نہیں رکھتے تھے,نہ آپ نے اسکا حکم دیاہے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی یہ عادت طیبہ تھی کہ رمضان کے اختتام پردوافراد کی شہادت طلب کرتے تھے.

4- اگرعید کا وقت نکل جانے کے بعد دو گواہ  چاند دیکھنے کی گواہی دیتے  تو آپ  (صلى الله عليه وسلم) روزہ توڑدیتے اوردوسروں کوتوڑنے کا حکم دیتے, پھردوسرے دن وقت پرعید کی نماز پڑھتے.

5- آپ  (صلى الله عليه وسلم)افطارمیں جلدی فرماتے اوراس کی تاکید کرتے تھے,اسی طرح سحری   کرتے اوراس کی تاکید فرماتے تھے اورسحری کوتاخیرسے کرتے اوراس کی تاکید کرتے تھے.

6- آپ (صلى الله عليه وسلم) نمازسے پہلے افطارکرتے تھے, اورافطارچند تروتازہ کھجورسے کرتے, اگراسے نہ پاتے توسوکھے کھجورسے اوراگروہ بھی میسرنہ ہوتا تو پانی کے چند گھونٹ سے افطارکرتے تھے.

7- آپ  (صلى الله عليه وسلم) افطارکے وقت یہ دعا پڑھتے :"ذهب الظمأْ ,وابتلّت العروق ,وثبت الأجرإن شاء الله تعالى."

پیاس چلی گئی,رگیں ترہوگئیں,اوراگرللہ نے چاہا توثواب ثابت ہوگیا.(ابوداود)

8- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)کا رمضان کے مہینے میں مختلف قسم کی بکثرت عبادات کا معمول تھا, چنانچہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتہ قرآن مجید کا دورکیا کرتے تھے.

9- آپ (صلى الله عليه وسلم) اس ماہ میں کثرت سے صدقہ وخیرات, نمازوتلاوت اورذکرکرنے  کےعلاوہ اعتکاف بھی کرتے تھے.

10- آپ  (صلى الله عليه وسلم) رمضان میں عبادت کا اس طرح اہتما م کرتے تھے جودوسرے مہینوں میں نہیں ہوتا تھا,حتی کہ کبھی کبھاردن ورات مسلسل عبادت کرتے تھے, اور کھانا اورپینا بھی چھوڑدیتے تھے,لیکن امت کومتواترروزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے, اورسحری کے وقت تک اس کی اجازت دی ہے.

ب- روزہ میں جائزاورناجائزامورکے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ

1- آپ (صلى الله عليه وسلم) روزہ دارکومجامعت, شوروغل اور گالی گلوچ سے منع فرماتے تھے, اور اگر اس سے کوئی گالی گلوچ کرے تویہ حکم دیا کہ جواب میں یہ کہہ دےکہ میں روزے سے ہوں.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے رمضان کے مہینے میں سفرکیا توحالت سفرمیں کبھی روزہ رکھا اور کبھی افطارکیا,اورصحاہ کرام کودونوں باتوں کا اختیا ردیا.

3- اگرمسلمانوں کا لشکردشمن سے قریب ہوجاتا توروزہ نہ رکھنے کا حکم دیتے تھے.

4- سفرکی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کے لئے آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے کسی مسافت کی تحدید نہیں کی ہے.

5- صحابہ کرام سفرشروع کرنے کے وقت ہی سے روزہ چھوڑدیتے تھے,آبادی سے باہرہوجانے کا اعتبارنہیں کرتے تھے اوروہ کہتے کہ یہی آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی سنت اورطریقہ ہے.

6- طلوع فجرکےوقت بسا اوقات آپ  (صلى الله عليه وسلم) جنابت میں ہوتےتھے, چنانچہ طلوع فجرکے بعد غسل فرماتے تھے اورروزہ رکھ لیتے تھے.

7- آپ  (صلى الله عليه وسلم)رمضان میں روزے کی حالت میں بعض ازواج مطہرات کا بوسہ بھی لیتے تھے.

8- آپ  (صلى الله عليه وسلم)سے روزے کی حالت میں مسواک کرنا,سرپرپانی ڈالنا ,ناک میں پانی ڈالنا, اورکلی کرنا بھی ثابت ہے.

9- آپ  (صلى الله عليه وسلم)اگرکوئی شخص بھول کرکھاپی لے تواسکو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے.

10- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے مریض اورمسافرکوروزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ بعد میں اسکی قضا کریں,اسی طرح حاملہ اورمرضعہ یعنی دودہ پلانے والی عورت کو بھی اجازت دی ہے کہ اگر وہ اپنے اوپر خوف محسوس کرتی ہوں تو روزہ نہ رکھیں لیکن بعد میں اس کی قضا کریں, (اگریہ عورتیں صرف بچوں کے نقصان کے اندیشے سے روزہ نہ رکھیں توقضا کے ساتہ ایک مسکین کوکھانا بھی کھلائیں گی.اوریہی چیزابن عمراورابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ,اوریہی شافعی اوراحمد کا قول بھی ہے.) (کیونکہ انکا روزہ نہ رکھنا بیماری کے خوف سے نہیں ہے  کہ صرف قضا کافی ہو,اس لئے اسکی تلافی مسکینوں کوکھانا کھلانے سے کی گئی جیساکہ تندرست آدمی اسلام کے ابتدائی دورمیں روزہ نہ رکھنے کی صورت میں کرتا تھا).

ج- نفلی روزوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ:

1- روزہ کے سلسلہ میں نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم) کی سنت سب سے کامل ترین اورحصول مقصد کا سب سے بڑا ذریعہ تھی,اوراس کی فرضیت میں آسانی اورسہولت پیدا کی گئی, کیونکہ مرغوبات وخواہشات نفس سے بچنا غیرمعمولی سخت اوردشوارگزارچیزتھی.آپ  (صلى الله عليه وسلم)روزہ رکھنے لگتے توکہا جانے لگتا کہ اب نہیں چھوڑیں گے ,اورجب نہیں رکھتے  توکہاجاتا کہ اب روزہ نہیں رکھیں گے.آپ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے.اورآپ ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزہ نہیں رکھتےتھے اورکوئی مہینہ آپ   (صلى الله عليه وسلم) کا بغیرروزہ کے نہیں گزرتا تھا.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)جمعہ کے دن مخصوص کرکےروزہ رکھنے کوناپسند ومکروہ سمجھتے تھے ,اورسومواروجمعرت کے دن آپ  (صلى الله عليه وسلم)خاص طورسے روزہ رکھتے تھے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم)سفروحضر کسی بھی حالت میں ایا م بیض (قمری مہینے کی 13 ,14, 15) تاریخ کو روزہ نہیں چھوڑتے تھے.

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)ہرمہینے کی شروعات کے تین دن روزہ رکھتے تھے.

5- آ پ  (صلى الله عليه وسلم)نے ماہ شوال کے چھ روزوں کے بارے میں فرمایا: "رمضان کے فوراً بعد یہ روزے رکھنا ہمیشہ روزے رکھنے کے برابرہے" (مسلم) آپ  (صلى الله عليه وسلم)عاشوراء کا روزہ باقی تمام ایا م کے مقابلے میں زیادہ اہتمام کے ساتہ رکھتے تھے.

6- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے عرفہ کے دن کے بارے میں فرمایا :"عرفہ کے دن  روزہ رکھنے سے گزشتہ سال اورآئندہ سال کے گناہ (صغیرہ) مٹا دیے جاتے ہیں" (مسلم) آپ  (صلى الله عليه وسلم)کی سنت طیبہ یہ تھی کہ میدان عرفات میں یوم عرفہ کوروزہ نہ رکھتے تھے.

7- آپ  (صلى الله عليه وسلم)ہمیشہ مسلسل روزے نہ رکھتے تھے, بلکہ آپ نے ارشاد فرمایا :"جس نے ہمیشہ اورمسلسل روزہ رکھا ,اس نے نہ روزہ رکھا اورنہ افطارکیا." (نسائی)

8- کبھی آپ  (صلى الله عليه وسلم)نفلی روزہ کی نیت کرلیتے اورپھرتوڑدیتے تھے- اکثریہ ہوتا کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) گھرمیں تشریف لاتے اورپوچھتے "کچہ کھانے کوہے"؟ اگرجواب ملتا نہیں, توفرماتے :"میں اب  روزہ رکھ لیتا ہوں." (مسلم)

9- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے فرمایاکہ :"تم میں سے اگرکوئی روزہ دارہو اور اسے کھانے کےلئے بلایا جائے تووہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں. " (مسلم)

د- اعتکاف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ

1- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)رمضا ن کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اوریہ سنت طیبہ وفات تک جاری رہی,ایک مرتبہ آپ نے رمضان میں اعتکاف نہیں کیا تو اس کی قضا شوال میں کی.

2- ایک دفعہ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اورایک مرتبہ درمیانی عشرہ میں اورایک مرتبہ آخری عشرہ میں اعتکاف کیا – شب قدراسی میں تلاش کرتے تھے- پھریہ معلوم ہوا کہ شب قدررمضان کے آخری عشرہ میں ہے  تو آپ برابر (آخری عشرہ میں) اعتکاف کرتے رہے یہاں تک کہ اپنے رب سے جاملے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم)اعتکاف روزے کی حالت میں ہی كرتےتھے.

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم)خیمہ لگانے کا حکم دیتے توآپ کے لئے مسجد میں خیمہ لگادیا جاتا اورآپ تنہائی میں اسی کے اندراللہ کی عبادت کرتے تھے.

5- جب آپ اعتکاف کا ارادہ فرماتے توفجرکی نمازکے بعد خیمہ میں داخل ہوجاتے-

6- اعتکاف کے دوران آپ  (صلى الله عليه وسلم) کا بستراورچارپائی اعتکاف کی جگہ رکھ دی جاتی تھی, آپ اپنے خیمہ میں تنہا داخل ہوتے تھے.

7- آپ  (صلى الله عليه وسلم) اعتکاف کی حالت میں اپنے گھرصرف انسانی ضرورت کے وقت تشریف لے جاتےتھے.

8- آپ  (صلى الله عليه وسلم)دوران اعتکاف اپنے سرکوعائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف نکالتے تووہ باوجود ایام حیض سے ہونے کے اسے دھوتیں اوربالوںمیں کنگھی کردیتیں.

9- اوربعض ازواج مطہرات خیمہ میں بھی آتی تھیں مگربجزبات چیت کے ان سے اورکوئی سروکارنہ رکھتے اورجب وہ چلنے کے لئے کھڑی ہوتیں تو واپسی پران کی مشایعت بھی کرتے تھےاوریہ رات میں ہواکرتا تھا.

10- آپ  (صلى الله عليه وسلم)اعتکاف کے دوران ازواج مطہرات کے ساتہ مباشرت نہیں کرتے تھے اورنہ بوسہ وغیرہ لیتے تھے.

11- آپ  (صلى الله عليه وسلم)ہرسال دس دن اعتکاف فرماتے تھے مگروفات کے سال بیس دن كا اعتکاف کیا.

_____________________

(1)  زادالمعاد(2/30)

(2)  زادالمعاد (2/82)

منتخب کردہ تصویر

كلمة الدكتور علي باصفر