Get Adobe Flash player

1- آپ (صلى الله عليه وسلم) نمازعیدین مصلى میں پڑھتے تھے اورعمدہ سے عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)عیدالفطرکی نمازمیں تشریف لے جانے سے پہلے چند طاق کھجوریں تناول فرماتے تھے,اورعید الأضحی' میں نمازسے فارغ ہوکرقربانی کے گوشت ہی سے شروعات کرتے تھے.آپ  (صلى الله عليه وسلم) عیدالفطرکی نمازتاخیرسے پڑھتے اورعیدالأضحى' کی نمازمیں جلدی کرتے تھے.

3- آپ (صلى الله عليه وسلم)  عیدگاہ پیدل تشریف لے جاتے تھے,وہاں پہنچنے پرنیزہ بطورسترہ آپ کے سامنے گاڑدیا جاتا(کیونکہ ان دنوں عیدگاہ میں کوئی عمارت نہ تھی)

4- جب آپ (صلى الله عليه وسلم)  عیدگاہ پھنچ جاتے توبغیراذان واقامت کہے اوربغیر"الصلاۃ جامعۃ" کہے نمازشروع کردیتے تھے,آپ  (صلى الله عليه وسلم)اورصحابہ کرام نمازعیدین سے پہلے یابعد کوئی نمازنہیں پڑھتے تھے.

5- خطبہ سے پہلے آپ (صلى الله عليه وسلم) دورکعت نمازپڑھتے تھے,پہلی رکعت میں تکبیرتحریمہ سمیت سات تکبیریں مسلسل کہتے تھے,ہردوتکبیروں کے درمیان معمولی سا وقفہ کرتے,اوران تکبیروں کے درمیان آپ  (صلى الله عليه وسلم) سے کوئی مخصوص ذکرثابت نہیں ہے.تکبیرمکمل ہونے کے بعد قراءت شروع کردیتے, پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ"ق" اوردوسری رکعت میں "اقتربت الساعۃ" پڑھتے –بسا اوقات دورکعتوں میں "سورۃالأعلی" اور "سورۃ الغاشیۃ"پڑھتے تھے,قراءت سے فارغ ہوکراللہ اکبرکہتے ہوئے رکوع میں چلے جاتے,پھردوسری رکعت میں مسلسل پانچ تکبیریں کہتے , پھر قراءت شروع کردیتے,نمازسے فارغ ہونے کے بعد اٹھ کرلوگوں کے سامنے کھڑے ہوجاتے اورلوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہتے,آپ انھیں وعظ ونصیحت فرماتے اوراچھی باتوں کا حکم دیتے اوربری باتوں سے منع فرماتے.

6- عیدگاہ میں کوئی منبرنہ ہوتا, آپ (صلى الله عليه وسلم)  زمین پرکھڑے ہوکرخطبہ دیتے تھے.

7- آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے خطبہ عید کے موقع پرلوگوں کوبغیرخطبہ سنے گھرچلے جانے کی بھی اجازت دی ہے. اسی طرح جب جمعہ کے دن عید پڑجائے  تواس کی رخصت دی ہے کہ جمعہ کی نمازمیں شریک نہ ہوں اورصرف عید کی نمازپراکتفا کرلیں اورظہرکی نمازادا کرلیں.

8- آپ  (صلى الله عليه وسلم) عیدگا ہ جاتے وقت ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سےواپس آتے تھے.

_____________________

(1) زادالمعاد(1/425)

منتخب کردہ تصویر