Get Adobe Flash player

أ- قراءت واستفتاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ:

1- آپ (صلى الله عليه وسلم)  جب نمازکےلئے کھڑے ہوتے تو "اللہ اکبر" کہتے ,اس سے  پہلے آپ  (صلى الله عليه وسلم) کچہ بھی نہیں کہتے,اورنہ ہی کبھی آپ  (صلى الله عليه وسلم) سے زبان سے نیت کرنا ثابت ہے.

2- اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  تکبیرتحریمہ کے ساتہ ہی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کوکشادہ کرکے انکو  قبلہ  رخ کرکے دونوں کانوں کی لو ,یا مونڈھےتک اٹھاتے تھے, پھردائیں  کوبائیں کی پشت پررکھتے تھے.

3- آپ (صلى الله عليه وسلم)  دعائے استفتاح میں کبھی یہ دعا پڑھتے"اللّہم باعد بینی وبین خطایای, کماباعدت بین المشرق والمغرب ,اللہم اغسلنی من خطایای بالماء والثلج والبرد, اللہم نقّنی من الذنوب والخطایاکما ینقّی الثوب الأبیض من الدنس"

اے اللہ! میرے اورمیری لغزشوں کے مابین اتنی ہی دوری کردے جتنی مشرق ومغرب کے درمیان ہے,اے اللہ!مجھے میری لغزشوں سے پانی, برف اور ,اولے سے دھوڈال,اے اللہ! مجھے خطاؤں اورگناہوں سے اس طرح پاک وصاف کردے,جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیاجاتا ہے.(متفق علیہ)

اورکبھی يہ دعا پڑھتے تھے:

(وجّهتُ وجهي للّذي فطر السماوات والأرض حنيفا مسلماً وما أنا من المشركين,إن صلاتي ونسكي ومحيايَ ومماتي لله رب العالمين ,لاشريك له , وبذالك أُمرت ُ وأنا أوّل المسلمينَ)

"میں صرف اس اللہ کی طرف اپنا رخ کرتا ہوں جس نے زمین اورآسمان کوپیدا کیا اوربلاشبہ میں مشرکین میں سے نہیں ہوں,بے شک میری نمازمیری قربانی ,میری زندگی, میری موت اللہ کے لئے ہے جوسارے جہانوں کا پالنے والا ہے,جسکا کوئی شریک نہیں ,اسی کا مجھے حکم دیا گیاہے اورمیں پہلا فرمانبردارہوں.(مسلم)

4- آپ  (صلى الله عليه وسلم) دعائےاستفتاح کے بعد "أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم " پڑھ کرسورہ   فاتحہ پڑھتے تھے.

5- آپ  (صلى الله عليه وسلم) دوسکتہ کرتے تھے ,ایک تکبیرتحریمہ اورقراءت کے درمیان ,دوسرے کے بارے میں اختلاف ہے,ایک قول ہے کہ سورہ فاتحہ کے بعد اورایک قول کے مطابق رکوع سے پہلے.

6- جب آپ (صلى الله عليه وسلم)  سورہ فاتحہ سے فارغ ہوتے تودوسری سورت پڑھتے ,کبھی آپ (صلى الله عليه وسلم) لمبی سورت پڑھتے ,اورکبھی سفریا کسی اورسبب سے ھلکی سورت پڑھتے لیکن عام طورسے آپ (صلى الله عليه وسلم) متوسط سورت پڑھتے تھے.

7- آپ (صلى الله عليه وسلم)  فجرکی نمازمین ساٹھ سے لیکرسوآیتوں کی قراءت کرتے تھے.اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  سے فجرمیں سورہ "ق"سورہ "روم" سورہ "تکویر" پڑھنا بھی ثابت ہے , نیزآپ  (صلى الله عليه وسلم)سے سورہ "زلزال " کودونوں رکعتوں میں بھی پڑھناثابت ہے,اورسفرکی حالت میں فجرکی نمازمیں سورہ "معوذتین " بھی پڑھنا ثابت ہے,اورایک مرتبہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے سورہ "المؤمنون" کوپڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ پہلی رکعت میں جب موسى وھارون علیہما السلام کے قصہ پرپہنچے توآپ  (صلى الله عليه وسلم) کو کھانسی آگئی اوررکوع میں چلے گئے.

8- آپ (صلى الله عليه وسلم)  جمعہ کے دن فجرکی نمازمیں "ألم "سجدہ اور"ھل أتی علی الإنسان" پڑھتے    تھے.(سورہ سجدہ اورسورہ دھر پڑھتے تھے)

9- آپ (صلى الله عليه وسلم)  ظہرکی نمازمیں کبھی طویل قراءت کرتے تھے,اورعصرکی نماز میں قراءت نمازظہرکی قراءت کی آدھی ہوتی اگرظہر کی قراءت طویل ہوتی, اور اگر ظہر کی قراءت چھوٹی  ہوتی تو عصر کی قراءت اس کے برابر ہوتی.

10- مغرب کی نمازمیں آپ (صلى الله عليه وسلم)  نے ایک بارسورہ "طور"  اورایک بارسورہ "مرسلات" پڑھی.

11- عشاء کی نمازمیں آپ  (صلى الله عليه وسلم)  نے سورہ "التین" پڑھی ہے, اورحضرت معاذ کے لئے آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے "والشمس وضحاھا", "سبح اسم ربک الأعلى"  , "واللیل إذایغشى" اوراس جیسی سورتیں متعین فرمائی تھیں. اورانہیں عشاءمیں سورہ بقرہ پڑھنے سے روکا تھا.

12- آپکا (صلى الله عليه وسلم) کا معمول تھا کہ جوسورت پڑھتے پوری پڑھتے,کبھی ایک سورت دورکعتوں میں پوری کرتے ,کبھی آپ (صلى الله عليه وسلم) ابتدائی سورت پڑھتے, البتہ آخر ودرمیان سورت سے  پڑھنے کے بارے میں کوئی چیزآپ  (صلى الله عليه وسلم) سے منقول نہیں ہے.

جہاں تک دو سورتوں کوایک ہی رکعت میں پڑھنے کا معاملہ تو آپ  (صلى الله عليه وسلم) ایسا صرف نفل میں کرتے تھے,اوررہا معاملہ ایک ہی سورت کو دونوں رکعتوں میں پڑھنے کا توآپ  (صلى الله عليه وسلم) ایسا کم ہی کرتے تھے, نیزآپ (صلى الله عليه وسلم) جمعہ وعیدین کے علاوہ کسی نمازمیں کوئی سورت متعین نہیں کرتے تھے کہ اسے چھوڑ کر دوسری سورت نہ پڑھیں.

13- آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے فجرکی نمازمیں رکوع کے بعد ایک مہینہ قنوت (نازلہ)پڑھا پھراسےترک کردیا. اوریہ قنوت ایک عارضی ضرورت کے تحت تھی, جب وہ ضرورت ختم ہوگئی توقنوت کو ترک کردیا, آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے قنوت پڑھنےکا  معمول نوازل یعنی پیش آمدہ مصیبت کے وقت ہی تھا, اوریہ قنوت فجرکے ساتہ  خاص نہ تھی.

ب:آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے نمازپڑھنے کا طریقہ(2):

1- ہرنماز میں آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی پہلی رکعت دوسری رکعت سے طویل ہوتی تھی.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم)  جب قراءت سے فارغ ہوتے تواتنی مقدارسکتہ کرتے کہ سانس اپنی جگہ پرلوٹ آتی ,پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) دونوں ہاتھوں کواٹھاکرتکبیرکہتے ہوئے رکوع  میں چلے جاتے,اوراپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں گھٹنوں پرمضبوطی سے پکڑکررکھتے,اوردنوں ہاتھوں کوپہلؤوں سے جدا رکھتے,اورپشت با لکل سیدھی رہتی تھی اورسرنہ بہت اٹھا ہوا ہوتا تھا اورنہ بہت جھکا ہوا بلکہ  پیٹھ کے برابر رہتا تھا.

3- رکوع میں "سبحان ربی العظیم " پڑھتے تھے (مسلم) اورکبھی اتنا اضافہ اورکردیتے تھے"سبحانک الّلہم ربنا وبحمدک ,اللّہم اغفرلی,"(متفق علیہ)آپ  (صلى الله عليه وسلم)رکوع میں یہ دعا بھی پڑھتے تھے"سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح"( متفق علیہ)

4- آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا رکوع عام طورسے دس مرتبہ سبحان ربی العظیم کہنے کے برابر ہوتا تھا. یہی کیفیت سجدہ کی بھی تھی,کبھی رکوع اورسجدہ بقدرقیام ہوتا,لیکن ایسا کبھی کبھاررات کی نمازوں میں تنہا کرتے تھے,آپ صلی ا للہ علیہ وسلم  کی  (صلى الله عليه وسلم) اکثروبیشترنمازیں معتدل اورمناسب ہوتی تھیں.

5- آپ (صلى الله عليه وسلم) "سمع اللہ لمن حمدہ" کہتے ہوئےرکوع سے سراٹھاتے تھے.(متفق علیہ) اوررفع یدین کرتےتھے , اوراپنی پیٹھ سیدھی کرتے تھے , نیزجب آپ  (صلى الله عليه وسلم) سجدہ سے سراٹھاتے تو اسی طرح کرتے اورفرماتے"اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جورکوع اورسجدے میں اپنی پیٹھ کوسیدھی نہ کرتا ہو" (داود ,ترمذی,نسائی ,ابن ماجہ)

جب آ پ  (صلى الله عليه وسلم) سیدھے کھڑے ہوجاتے تو"ربناولک الحمد "پڑھتے, اورکبھی "ربنالک الحمد" اورکبھی"اللّہم ربنا لک الحمد" پڑھتے تھے.

6- ركوع كے بعد آپ (صلى الله عليه وسلم) کا یہ قیام بھی بقدررکوع طویل ہوتا,اورآپ  (صلى الله عليه وسلم)قیام کے دوران یہ دعا پڑھتے: "اللّهم ربنا ولك الحمد ملءَ السماوات وملْءَ الأرضِ, وملْءَ مابينهما,وملْءَ ماشئتَ من شيءً بعدُ,أهل الثناء والمجد,أحق ماقال العبدُ, وكلنا لك عبدٌ,لامانع لما أعطيتَ,ولا معطي لما منَعْتَ ,ولاينفع ذاالجدِّ منك الجدُّ" (مسلم)

7- پھرآپ (صلى الله عليه وسلم)  اللہ اکبرکہہ کر بغیررفع یدین کئے ہوئےسجدے میں چلے جاتے تھے . سجدے کے وقت آپ  (صلى الله عليه وسلم) پہلے اپنے دونوں گھٹنوں کو زمین پررکھتے پھرہاتھوں کورکھتے.پھرپیشای اورناک کورکھتے,آپ  (صلى الله عليه وسلم) پیشانی وناک پرسجدہ کرتے تھے اورعمامہ کے کورپرسجدہ کرنا ثابت نہیں,آپ  (صلى الله عليه وسلم)زیادہ ترزمین پرسجدہ کرتے تھے اورپانی وگیلی مٹی پر,کھجورکی چٹائی اوردباغت دئے ہوئے چمڑے پربھی سجدہ کرنا آپ  (صلى الله عليه وسلم)سے ثابت ہے.

8- سجدے کی حالت میں پیشانی اورناک کوزمین پراچھی طرح ٹکا دیتے تھے, اوردونوں ہاتھوں کو پہلؤوں سے اسطرح دوررکھتے کہ دونوں بغل کی سفیدی نظرآتی تھی.

9- اوردونوں ہاتھوں کوکندھوں اورکانوں کے برابرمیں رکھتے اورسجدہ میں اعتدال کرتےتھے, دونوں پیروں کی انگلیوں کے سرے قبلہ کی طرف ہوتے, ہتھیلیاں اورانگلیاں پھیلادیتے ,انگلیاں نہ باہم ملی ہوتیں نہ بالکل الگ ہوتیں.

10- آپ  (صلى الله عليه وسلم) سجدہ میں یہ دعا پڑھتے:"سبحانك اللّهم ربنا وبحمدك ,الّلهم اغفرلي" اےاللہ ہمارے رب میں تیری پاکی اورحمد بیان کرتا ہوں ,اے اللہ تومجھے بخش دے, ( متفق علیہ)اوريہ بھی کہتے :"سبوح قدّوس ربُّ الملائکۃ والروح"

توسب عیوب سے بالکل بری ہے,پاک ہے, فرشتوں اورروح(جبرئیل) کا مالک  ہے.( مسلم)

11- پھراللہ اکبرکہتے ہوئے بغیررفع یدین کئے ہوئے اپنا سر اٹھاتے, پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) بایا ں پاؤں بچھاکراس پربیٹھ جاتے,اوردائیں پیرکوکھڑا رکھتے,اوراپنے دونوں ہاتھوں کورانوں پراسطرح رکھتےکہ  دونوں کہنیاں رانوں پرٹکی رہتیں ,اورہاتہ کے سرے(پنجے) کوگھٹنوں پر کرلیتے,اوردوانگیوں کوسمیٹ کرحلقہ بنالیتے تھے, پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) انگلی اٹھاکر دعا کرتے اوراسے برابرہلاتے رہتے,اور یہ دعا پڑھتے :"اللّهم اغفرلي ,وارحمني, واجبرني, واهدني, وارزقني,"(داود ,ترمذي,ابن ماجه)

اے اللہ مجھے بخش دے,مجھ پررحم فرما,میرے نقصانات کی تلافی کردے, مجھے ہدایت دے اورمجھےرزق دے.

12- آپ  (صلى الله عليه وسلم) اس رکن (جلسہ ا ستراحت) کوبھی سجدہ کے بقدرطویل کرتے تھے.

13- پھرآپ (صلى الله عليه وسلم)  رانوں کا سہارالیتے ہوئے پاؤں کے پنجوں کے سرے پرکھڑے ہوجاتے تھے.آپ (صلى الله عليه وسلم)  کھڑے ہوکرفوراًقراءت شروع کردیتے تھے,استفتاح کے وقت کی طرح سکوت نہ کرتے تھے(یعنی پہلی رکعت کی طرح کچہ وقفہ نہیں فرماتے), پھرآپ (صلى الله عليه وسلم) پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت بھی اداکرتے تھے- بس صرف اتنا فرق ہوتا تھا کہ اس میں پہلی رکعت کی طرح قراءت سے پہلے نہ تووقفہ یاسکوت ہوتا نہ دعائے استفتاح ,نہ تکبیرتحریمہ اورنہ وہ طوالت ہوتی تھی, چنانچہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) پہلی رکعت دوسری سے لمبی کرتے تھے ,اور بسا اوقات آپ  (صلى الله عليه وسلم) پہلی رکعت اتنی لمبی کرتے جبتک کہ لوگوں کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی تھی .

14- جب آپ (صلى الله عليه وسلم)  تشہد کے لئے بیٹھتے توبایا ں ہاتہ بائیں ران پراورداہنا ہاتہ داہنی ران پررکھتے.اورشہاد کی انگلی سے اشارہ کرتے ,اس انگلی کونہ توآپ بالکل کھڑی رکھتے اورنہ بالکل سلادیتے بلکہ تھوڑی جھکائے رکھتے اوراسے ہلاتے رہتے تھے,اورچھنگلیا اورچھنگلیا اوربیچ والی کے درمیان  والی انگلی سمیٹ لیتے اوردرمیان والی انگلی کو انگوٹھے کے ساتہ ملاکرحلقہ بناتے,شہادت کی انگلی کواٹھاکردعا پڑھتے اوراسکی جانب اپنی نگاہ رکھتے.

15- اس جلسہ میں آپ (صلى الله عليه وسلم)  ہمیشہ تشہد پڑھتے اورصحابہ کرام کویہ دعا پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے:"التحيات لله والصلوات والطيبات ,السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته,السلام علينا وعلي عباد الله الصالحين,أشهد أن لا اله الا الله , وأشهد أن محمدا عبده ورسوله"( متفق علیہ)

تمام کی تمام عبادتیں اللہ کے لئے ہیں, اے نبی سلام ہوآپ پراوراللہ کی رحمت اوراسکی برکتیں,ہم پراوراللہ کے سب نیک بندوں پرسلام ہو,میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد  (صلى الله عليه وسلم)اللہ کے بندے اوررسول ہیں-

آپ  (صلى الله عليه وسلم) اس تشہد کو بہت جلد ختم کرتے گویا آپ (صلى الله عليه وسلم) گرم پتھر پر کھڑے ہوئے ہوں, پھرآپ  (صلى الله عليه وسلم) رانوں کا سہارالیتے ہوئے دونوں قدموں اورگھٹنوں پراللہ اکبرکہہ کررفع یدین کرتے ہوئے کھڑے ہوجاتے تھے,پھرصرف سورہ فاتحہ پڑھتے,اورکبھی کبھارآخری دورکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ بھی کچہ اورپڑھتے تھے.

16- جب آپ تشہد  (صلى الله عليه وسلم) اخیرمیں بیٹھتے توتورّک کرتےتھے,اسطورپرہ آپ (صلى الله عليه وسلم) اپنی سرین کوزمین پرلگالیتے,اورای طرف پاؤں کونکال لیتے." (ابوداود)

اوربائیں پیرکوران اورپنڈلی کے درمیان کرلیتے تھےاوردائیں پیرکو کھڑا رکھتے ,اورکبھی بچھا لیتے.

اوردائیں ہاتہ کودائیں ران پررکھتے,اورتینو انگلیوں کوملالیتے اورشہادت کی انگلی کوکھڑی کرلیتے اورآپ نماز (تشہد) میں یہ دعا  پڑھتے تھے: "اللّهم إني أعوذ بك من عذاب القبر, وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال , وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات , اللّهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم"(بخاري)

اے اللہ میں عذاب قبرسے پناہ مانگتا ہوں اوردجال کے فتنے اورزندگی اورموت کے فتنے سے پناہ مانگتاہوں – اے اللہ میں گناہ اورقرض سے پناہ مانگتاہوں-

پھرآپ (صلى الله عليه وسلم)  داھنی طرف :"السلام عليكم ورحمة الله " كہہ کرسلام پھیرتےتھے اوربائیں طرف بھی اسی طرح کرتے تھے.

17- آپ  (صلى الله عليه وسلم) نمازیوں کوسترہ رکھنے کا حکم دیتے تھے, گرچہ تیریا لاٹھی ہی کے ذریعہ کیوں نہ ہو,آپ  (صلى الله عليه وسلم)سفر اور خشکی میں نیزہ کوگاڑ دیتے پھراس کوسترہ بناکرنمازپڑھتے تھے, سواری اورکجاوے کی لکڑی کا بھی سترہ بنا لیتے تھے,

18- آپ (صلى الله عليه وسلم)  جب دیوارکی طرف منہ کرکے نمازپڑھتے تواپنے اوراس کے درمیان بکری کی گزرگاہ کا فاصلہ چھوڑدیتے تھے,اوراس سے دورنہ رہتے بلکہ سترہ کے قریب ہونے کا حکم فرماتے تھے.

ج- نمازمیں حرکتوں کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(3):

1- آپ (صلى الله عليه وسلم)  نمازمیں زیادہ ادھرادھرنہ متوجہ ہوتے تھے.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم)  نمازمیں اپنی آنکھوں کوبند نہ کرتے تھے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم) جب نمازمیں کھڑے ہوتے توسرکوجھکائے رکھتے تھے.آپ  (صلى الله عليه وسلم)جب کبھی نمازکولمبی کرنے کاارادہ کرتے پھرکہیں سے بچے کے رونے کی آوازسنتے تونمازکوہلکی کردیتے تاکہ اسکی ماں کوکوئی تکلیف نہ ہو.

4- آپ (صلى الله عليه وسلم)  اپنی نواسی امامہ کواپنے کندھے پراٹھاکرفرض نمازپڑھتے تھے,جب قیام کرتے تواٹھالیتے,اورج رکوع اورسجدہ میں جاتے تواتاردیتے تھے.

5- آپ (صلى الله عليه وسلم)  نمازپڑھ رہے ہوتے اورحسن یا حسین آکرآپ  (صلى الله عليه وسلم) کی پشت پرسوارہوجاتے تھے توآپ  (صلى الله عليه وسلم) سجدہ کولمبا کردیتے تاکہ ان کواتارنا نہ پڑے.

6- آپ (صلى الله عليه وسلم)  نمازپڑھ رہے ہوتے تواس دوران اگرعائشہ رضی اللہ عنہا آجاتیں توآپ (صلى الله عليه وسلم)  چل کران کے لئے دروازہ کھول دیتے اورپھرمصلی پرآجاتے .

7- آپ (صلى الله عليه وسلم)  نمازکی حالت میں سلام کا جواب اشارہ سے دیتے تھے.

8- آپ (صلى الله عليه وسلم)  نمازمیں بوقت حاجت پھونکتے اورکھنکھارلیتے تھے.آپ  (صلى الله عليه وسلم)کبھی نمازمیں روتے بھی تھے.

9- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کبھی ننگے قدم نمازپڑھ لیتے اورکبھی جوتے  ہی میں. اورآپ (صلى الله عليه وسلم) نے یہودیوں کی مخالفت کی غرض سے جوتوں میں نمازپڑھنے کا حکم دیا.

10-  کبھی آپ (صلى الله عليه وسلم)  ایک ہی کپڑے میں نمازپڑھتے اوراکثرآپ  (صلى الله عليه وسلم)دوکپڑوں ہی میں نمازپڑھتے تھے.

د- نمازکے بعد کے اعمال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(4):

1- آپ (صلى الله عليه وسلم)  سلام پھیرنے کے بعد تین بار"استغفراللہ " کہتے تھے, پھریہ دعا پڑھتے تھے :"اللّهم أنت السلام ومنك السلام تباركتَ ياذالجلال ِوالإكرام " (مسلم)

اے اللہ!توہرعیب سے پاک ہے اورتجھ ہی سے سلامتی ہے,توبرکت والا ہے اے بزرگی اورتعظیم والے .

آپ (صلى الله عليه وسلم)  قبلہ رخ صرف اتنی دیربیٹھتے کہ استغفاراورمذکورہ دعا پڑھتے,پھرفورًا اپنا رخ مقتدیوں کی طرف کرلیتے,اوراپنے دائیں اوربائیں جانب سے (رخ انور) کوپھیرلیتے تھے, پھراپنا چہرہ انورمقتدیوں کی سمت کے علاوہ کسی دوسری سمت نہ کرتے تھے.

2- جب آپ (صلى الله عليه وسلم)  فجرکی نمازپڑھ لیتے توسورج طلوع ہونے تک مصلی پرہی بیٹھے رہتے تھے.

3- آپ (صلى الله عليه وسلم)  ہرفرض نمازکے بعد یہ دعا پڑھتے تھے:"لاإله إلا الله وحده لاشريك له, له الملك وله الحمد وهوعلي كل شيءِ قديرٌ,اللّهم لامانع لما أعطيتَ, ولا معطي لما منعتَ ولا ينفع ذالجدِّ منكَ الجدِّ" (متفق علیہ) "ولا حول ولا قوة إلا بالله, لا إله إلا الله, ولا نعبد إلا إياه, له النعمة وله الفضل , وله الثناء الحسن, لا إله إلا الله, مخلصين له الدينَ ولوكره الكافرونَ"( مسلم)

الله واحد كے سوا کوئی معبود برحق نہیں, وہ اکیلا ہےاس کا کوئی شریک نہیں, اسی کی حکومت ہے , اسی کے لئے سب تعریف ہے اوروہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے- اے اللہ جوتونے عطاکیا ہے ,اسے کوئی روکنے والا نہیں, اورجوتونے روک دیا ہے,اسے کوئی دینے والا نہیں اورکسی عزت داردولت والے کوتیرے مقابلہ میں دولت نفع نہیں دیتی,(یااسکی مالداری تیرے عذاب سے بچانہیںسکتی) (رواہ ابن ماجہ)

اورگناہ سے بازرہنا اوراطاعت کی قوت اللہ کی توفیق کے بغیرممکن نہیں,اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں- ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے,اسی کے لئے ساری نعمتیں اورساری بڑائیاں اوراچھی تعریفیں ہیں, اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں , ہم خالص اسی کی بندگی کرتے ہیں ,اگرچہ کافروں کویہ بات بری معلوم ہو.(مسلم)

آپ  (صلى الله عليه وسلم) نے اپنی امت کے لئے یہ مستحب قراردیا کہ ہرفرض نمازکے بعد "سبحان اللہ 33مرتبہ ,الحمدللہ 33مرتبہ,اللہ اکبر33مرتبہ کہیں اورآخرمیں "لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ,لہ الملک ولہ الحمد وھوعلی کل شیءِقدیر" کہہ کرسوکا عدد پوراکریں.

ھ – نفل اوررات کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ(5):

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم) غیرسبب والی نفل اورسنتوں کوگھرہی میں پڑھتے تھے, اورخاص کرمغرب کی سنت کو.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم)  حضریعنی حالت اقامت میں ہمیشہ دس رکعتوں کا اہتمام کرتے تھے: "ظهرسے پہلے اوربعد دورکعت ,مغرب کے بعد دورکعت,عشاء کے بعد گھرمیں دورکعت,اورفجرسے پہلے دورکعت."

3- آپ (صلى الله عليه وسلم) نفل نمازوں میں فجرکی دوسنتوں کاسب سے زیادہ اہتمام کرتے تھے, آپ (صلى الله عليه وسلم) انہیں اوروترکوسفروحضرمیں کبھی بھی نہیں چھوڑتے تھے.اورسفرمیں ان دوراتب (سنت مؤکدہ) کے علاوہ دیگررواتب کوپڑھنا آپ   (صلى الله عليه وسلم) سے کبھی بھی ثابت نہیں ہے.

4- آ پ  (صلى الله عليه وسلم) فجرکی سنت کے بعد دائیں پہلو لیٹ جاتے تھے.

5- کبھی آپ (صلى الله عليه وسلم)  ظہرسے پہلے چاررکعت سنت پڑھتے,اورجب کبھی آپ  (صلى الله عليه وسلم) سے ظہرکے بعد کی دوسنتیں چھوٹ جاتیں توعصرکے بعد ان  کی قضا فرماتے تھے.

6- آپ  (صلى الله عليه وسلم) رات کی اکثرنماز کھڑے ہوکرپڑھتے تھے. کبھی بیٹھ کرپڑھتے تھے. اورکبھی ایسابھی ہوتا کہ آپ  (صلى الله عليه وسلم) بیٹھ کرپڑھ رھے ہوتے اورجب قراءت کی تھوڑی مقداررہ جاتی توکھڑے ہوکرمکمل کرتے اورپھرکھڑے ہوکررکوع کرتےتھے.

7- آپ (صلى الله عليه وسلم)  رات کی نماز8 رکعت پڑھتے تھے. ہردورکعت کے بعد سلام پھیردیتے تھے. پھرمسلسل پانچ رکعت بطور وترپڑھتے,صرف آخر رکعت میں تشہد کےلئے بیٹھتےتھے. یا کبھی 9رکعت وترپڑھتے, 8 رکعت کو مسلسل پڑھتے اورصرف آٹھویں رکعت کے آخرمیں بیٹھتے(اورتشہد پڑھتے) , پھربغیرسلام پھیرے اٹھ کھڑے ہوتے, پھرنویں رکعت پڑھ کر بیٹھتے اور تشہد پڑھتے اورسلام پھیردیتے ,پھرسلام کے بعد دورکعت اور نمازپڑھتے ,یا کبھی آپ   مذکورہ بالا کیفیت ہی پرسات رکعت وترپڑھتے, پھراس کے بعد دورکعت بیٹہ کرپڑھتے تھے.

8- آپ  (صلى الله عليه وسلم) شروع رات ,درمیانی رات اورآخررات میں وتر پڑھتے تھے اورفرماتے تھے:"تم رات کی آخری نمازکووتربناؤ" (متفق علیہ)

9- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کبھی وترکے بعد دورکعت بیٹہ کرپڑھتے, اور کبھی بیٹہ کرقراءت کرتے,اورجب رکوع کا ارادہ کرتے توکھڑے ہوجاتے اوررکوع کرتے.

10- جب آپ  (صلى الله عليه وسلم) کو کبھی نیند کا غلبہ ہوتا یا تکلیف ودرد محسوس کرتے تو دن میں بارہ رکعت پڑھتے تھے.

11- آپ  (صلى الله عليه وسلم) ایک مرتبہ تہجد میں ایک ہی آیت کودھراتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی.

12- آپ (صلى الله عليه وسلم)  کبھی رات کی نماز میں قرآ ن کوآہستہ پڑھتے ,اورکبھی بلندآوازسے پڑھتے تھے ,کبھی آپ (صلى الله عليه وسلم) قیام کولمبا کرتے اورکبھی ہلکا کرتے تھے.

13- آپ  (صلى الله عليه وسلم) وترکی نمازمیں "سبح اسم ربک الأعلى" "قل یا أیھا الکافرون" اور"قل ھواللہ أحد" پڑھتے تھے,جب وترکے بعد سلام پھیرتے تو تین مرتبہ "سبحان الملک القدوس" پڑھتےاورتیسری مرتبہ میں آوازکوبلندکرکے کھینچ کرپڑھتےتھے." (داود ,نسائی, ابن ماجہ)

__________________

(1) زادالمعاد (1/194)

(2)  زادالمعاد(1/208)

(3)  زادالمعاد(1/241)

(4)  زادالمعاد (1/285)

(5) زادالمعاد (1/311)

منتخب کردہ تصویر

الشيخ الأستاذ د.عادل الشدي