Get Adobe Flash player

محمد صلى الله عليه وسلم کا طریقہ

عبادات ومعاملات اوراخلاق میں محمد صلى الله عليه وسلم کا طریقہ

ا-قضائے حاجت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ:

1- آپ £جب بیت الخلاء میں داخل ہونےکا  قصد کرتے توکہتے : (اللَّهم إني أعوذبك من الخُبُثِ والخبائثِ)"اے اللہ ! میں خبیث جنوں اورجنیوں کے شرسے تیری پناہ مانگتا ہوں" (متفق علیہ)

اورجب بیت الخلاء سے باہرنکلتے توکہتے (غفرانک)"(اے اللہ!) میں تیری بخشش چاہتا ہوں" (داود , ترمذی , ابن ماجہ )

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم) اکثربیٹھ کرپیشاب کرتے تھے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کبھی پانی سے استنجاء کرتے ,توکبھی پتھرسے ,اورکبھی پانی اورپتھردونوں سے کرتےتھے.

أ- قراءت واستفتاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ:

1- آپ (صلى الله عليه وسلم)  جب نمازکےلئے کھڑے ہوتے تو "اللہ اکبر" کہتے ,اس سے  پہلے آپ  (صلى الله عليه وسلم) کچہ بھی نہیں کہتے,اورنہ ہی کبھی آپ  (صلى الله عليه وسلم) سے زبان سے نیت کرنا ثابت ہے.

2- اورآپ (صلى الله عليه وسلم)  تکبیرتحریمہ کے ساتہ ہی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کوکشادہ کرکے انکو  قبلہ  رخ کرکے دونوں کانوں کی لو ,یا مونڈھےتک اٹھاتے تھے, پھردائیں  کوبائیں کی پشت پررکھتے تھے.

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم) جمعہ کے دن کی بہت تعظیم وتشریف کرتے تھے اوراس کوبہت  ساری خصوصیت دے رکھی تھی,ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

* جمعہ کے دن غسل کرنا سنت موکدہ ہے

* جمعہ کے دن اچھالباس زیب تن کرنا مستحب ہے.

* خطبہ کو خاموشی سےسننا واجب ہے

* جمعہ کے دن آپ  (صلى الله عليه وسلم) پرکثرت سے درود وسلام بھیجنا مستحب ہے.

1- آپ (صلى الله عليه وسلم) نمازعیدین مصلى میں پڑھتے تھے اورعمدہ سے عمدہ لباس زیب تن فرماتے تھے.

2- آپ  (صلى الله عليه وسلم)عیدالفطرکی نمازمیں تشریف لے جانے سے پہلے چند طاق کھجوریں تناول فرماتے تھے,اورعید الأضحی' میں نمازسے فارغ ہوکرقربانی کے گوشت ہی سے شروعات کرتے تھے.آپ  (صلى الله عليه وسلم) عیدالفطرکی نمازتاخیرسے پڑھتے اورعیدالأضحى' کی نمازمیں جلدی کرتے تھے.

3- آپ (صلى الله عليه وسلم)  عیدگاہ پیدل تشریف لے جاتے تھے,وہاں پہنچنے پرنیزہ بطورسترہ آپ کے سامنے گاڑدیا جاتا(کیونکہ ان دنوں عیدگاہ میں کوئی عمارت نہ تھی)

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم) خطبہ کے دوران منبرپرہی بارش طلب کرتے تھے, آپ جمعہ کے علاوہ بھی بارش طلب کیا کرتے تھے, اسی طرح آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اوردونوں ہاتہ اٹھایا اوربارش کے لئے اللہ سے دعا فرمائی.

2- آپ (صلى الله عليه وسلم)  بارش میں یہ دعا پڑھتے تھے :"اللّهم اسقِ عبادك وبهائمك وانشر رحمتك,وأحْيِ بلدك الميِّتَ (داود) "اللّهم اسقنا غيثا مُغيثاً مريئاً مريعاً نافعاً غيرضار,عاجلاً غيرآجل " (داورد).

اے میرے رب !اپنے بندوں اورچوپایوں کوسیراب کردے, اوراپنی رحمت کوپھیلادے,اورمرہ وسوکھی زمین کوزندہ کردے(داود)

1- نمازخوف میں آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی سنت طیبہ یہ تھی کہ جب دشمن آپ  (صلى الله عليه وسلم) کے اورقبلہ کے درمیان ہوتا تو تمام مسلمان آپ (صلى الله عليه وسلم) کی اقتداء کرتے اورآپ اپنے پیچھے مسلمانوں کودوصفوں میں تقسیم کردیتے تھے.آپ تکبیرکہتے تووہ سب تکبیرکہتے ,آپ رکوع کرتے تووہ بھی رکوع کرتے ,پھرآپ سراٹھاتے تووہ سب آپ کے ساتہ سراٹھاتے, پہرپہلی صف کے لوگ آپ کے ساتہ سجدہ کرتے اور دوسری صف والے دشمن کے مقابل کھڑے رھتے,جب آپ  (صلى الله عليه وسلم)دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تودوسری صف والے اپنے دونوں سجدے کرتے, پھر کھڑے ہوکرپہلی صف کی جگہ میں چلے جاتے اورپہلی صف والے پیچھے آکردو

1- جنازہ کے سلسلے میں آپ (صلى الله عليه وسلم)  کا طریقہ انتہائی کامل اورتما م دوسری قوموں سے بالکل مختلف تھا,اس میں میت اوراس کے رشتہ داروں کے ساتہ حسن سلوک اوراحترام کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا تھا. مریض کے ساتہ آپ  (صلى الله عليه وسلم)کا شروع ہی سے سلوک ذکرآخرت, وصیت اورتوبہ واستغفارکرنے کی ہدایت پرمبنی ہوتا,اوراس کے پاس موجود لوگوں کو حکم دیتے کہ قریب الموت مریض کو کلمۂ شہادت"لا الہ الا اللہ" کی تلقین کرتے رہیں,تاکہ کلمہ طیبہ ہی اس کا آخری کلام ہو.

أ- زکاۃ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ:

1- آپ  (صلى الله عليه وسلم)نے زکوۃ کا انتہائی کامل ترین نظام پیش کیا ہے.اس کے وجوب کا وقت ,اس کی مقدار,اس کے نصاب ,کن پرواجب ہوتی ہے, اوراسکے مصارف کیا ہیں,-ان سب کی پوری وضاحت فرمادی ہے- مالداروں اورمسکینوں کے مصالح اورضروریات کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے.اورمالداروں کے مال میں بغیرظلم کے اتنا ہی زکوۃ واجب کیا جتنے سے فقیروں کی ضرورت پوری ہوسکے.

أ- رمضان کے روزے رکھنے میں آپ (صلى الله عليه وسلم)کا طریقہ

1- نبی کریم  (صلى الله عليه وسلم)کی عادت یہ تھی کہ جب تک رویت ہلال کی تحقیق نہ ہوجائے یا کوئی عینی گواہ نہ مل جاتا ,آپ روزہ شروع نہ کرتے تھے, اگرچاند نہ دیکھا جاتا اورکہیں سے اس کی شہادت بھی نہ ملتی توشعبان کے پورے تیس دن مکمل کرتے تھے.

2- اوراگرتیسویں رات کوبادل حائل ہوجاتا توآپ (صلى الله عليه وسلم) شعبان کے تیس دن مکمل کرتے تھے,اورآپ ابرآلود دن کو روزہ نہیں رکھتے تھے,نہ آپ نے اسکا حکم دیاہے.

3- آپ  (صلى الله عليه وسلم) کی یہ عادت طیبہ تھی کہ رمضان کے اختتام پردوافراد کی شہادت طلب کرتے تھے.

منتخب کردہ تصویر

src1234250819.jpg